دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 135
۱۳۵ جاں شہدائے کے جاں فراموش شود هر زمان آید هم آنتوش شود وہ اس کی جان ہی گیا اور جان کب بھلائی جاسکتی ہے وہ ہر وقت آتا ہے اور اس سے قبل گیر ہوتا ہے۔ دیده چون بر دلبر دست اوفتد هر غیر است از دست او قند وبر مست پر جب نظر پڑتی ہے تو ہر چیز جو ہاتھ میں ہوتی ہے گر پڑتی ہے غیر گو در پر بود دورست دور یا به دور افتاده مردم در محور فرگود غیر اگر پہلو میں ہو پھر بھی دور ہے۔ لیکن یار اگر دور بھی ہو تو ہر وقت پاس ہی ہے کاروبار عاشقان کار معده است به تر از فکر د قیاسات شماست عاشقوں کا کاروبار ہی جدا ہے ۔ اور تم لوگوں کے فکر و قیاس سے بالا تر ہے فریضہ تیار دست دل در دلبرے چشمہ ظاہر سی بدیوار و درے یہ قوم بڑی ہشیار ہے ان کا دل تو دلبر میں ہوتا ہے اور ظاہری آنکھیں درو دیوار کی طرف یال خروشان از پینے کو پیکری بر زبان صد فقہ را از دیگرے ان کی جان تو ایک حسین کے لیے تڑاتی ہے اور ان کی زبان پر اوروں کا ذکر ہوتا ہے قانیان را ما نهی از یار نیست بچه و زن بر سرشان بار نیست خوانی لوگوں کے لیے کوئی چیز بھی پیار سے مانع نہیں ۔ بیوی اور بیچتے ان کے سر پر بوجھ نہیں ہوتے یا دو صد زنجیر بردم پیش یار خمار با او گل گل اندر ہجر خان سیکڑوں دونوں کے بارہ ہو اب کے وہیں رہتے ہیں ہیں پر ان کو کانٹے پھول اور اس کے پیروں کا اے سلام ہوتے ہیں تو بیک فالسے برآری صد فعال عاشقان خنداں پائے جانفشاں تو کیا ایک کانٹے کی وجہ سے سینکڑوں نہیں مارتا ہے اور رہائش اپنی جان قربان کر کے بھی ہنستے رہتے ہیں