دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 130
شمس الفنٹی ہے۔ ی شد عالم که نامش مصطفی سید مشتاق حق شمس الفظی وہ جہاں کا بادشاہ تھیں کا نام مصطفے سے ہو عشاق حق کا سردار اور شمس اند بیر ترے غلیل نور دوست کو منظور قد منظور اوست وہ وہ ہے کہ ہر نوں ہی کے طفیل سے ہے اور وہ وہ ہے کہ حسن کا منظور کردہ خدا کا منظر کردہ ہے۔ آنکہ پھر زندگی آپ روان در معارف ہمچو بحر بیکراں اس کا موجود زندگی کے لیے آپ رمان ہے اور حقایق اور معارف کا ایک نا پیدا کنار سمندر ہے آنکه بر صدق و کمالش در جهانی صد دلیل محبت روشن عیمان اوہ کہ جس کی سچائی اور کمال پر دنیا میں سینکڑوں دلیلیں اور روشن راہیں ظاہر ہیں اني الراي خدا بر روئے کو نظر کار خدائی کرنے اور جس کے منہ پر خدائی انوار بر سنتے ہیں اور جس کا کوچہ نشانات الہی کا مظہر ہے انکہ بلہ انبیاء و مانتاں خاندانش سمجھ خاک آستان که تمام نبی اور راست باز خاک در کی طرح اس کے خادم ہیں انکہ رش ہے رساند تا سما سے کنید چون ما و تا بال در صفا وہ کہ جس کی محبت آدمی کو آسمان تک پہنچاتی ہے اور صفائی میں چمکتے ہوئے چاند کی طرح بنا دیتی ہے سے دہر فر موتیاں را ہر زماں چوں سے بنائے موسی صد نشان وہ نبی کی فرعونی لوگوں کو ہر وقت دکھاتا ہے موسی کیے جو بیضا کی طرح سینکڑوں فستانا ۔ انتانات آل نبی در انبی در چشم اس کو دامن زار سیرت کی شہوت پرست کہیں شوار اور یه تیجا ان کو بہت اندھوں کی نظر میں ایک عورت پر بہت اور کینہ پرور شخص ہے