دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 129

تو اس کی نصرت کے لیے خود تیار ہو جاتا ہے اور ان کے دیوار سے تیرا چہرہ یاد آتا ہے این قلیاں کا رہا کا نور جہاں سے نائی پھرا کر پیش دیاں اس جہان میں بہت سے نمایاں کام تو اس کی عزت کے لیے ظاہر کرتا ہے خود کئی وجود کیتا کی کار برای خورد وی روان تر آن با خدار را تو آپ ہی کام کرتا ہے اور آپ ہی کر جاتا ہے۔ اور آپ ہی اس باز کو سواتی کیا ہے ماکت را در یک تے پیڑے کسی کو کورش نمی گیرد روشنی مور کو تو یکدم ایک بدقسمتی اخیر بنا دیتا ہے۔ تاکہ اس کے ظہور سے ملا قات درونی حاصل کی ہے اہر کئے ہوں قربانی سے گئی ان زمینی آسمانی ہے کئی جب تو کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی م شاش میاد بود چون انقلاب تا انها مطالب این دریا اس کو ہر کتاب کی مانندہ سینکروں شعاعیں بجھتا تھے تا کہ طالب دیں اندھیرے میں زہر ہے پاتے ران کہاں کی جانی پردہ منہ میں ہے