دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 128
۱۲۸ از کرم به داشتی بر باد ما در تو ہر یار دیر اشتہار ما تنے بھی مران سے انے والا یا ہو رہا ہے اور یوں ہوا اور پل نیر اپنی حافظ و شاری از جود و کرم پیکان را یاری از لطف تام از ی ایرانی در نهایت سارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمائی مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے سے بنده در مانده باشد ول طلبان ناگهان درمان بر آری از میانی جب بند میگویم اور درماندہ ہو جاتا ہے تو جو د میں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے۔ماجو سے را کلمے گیرد براہ ناگہاں آرمی برد صد مہر و ماہ جب کسی مار کر تے ہیں ان میرا گھیر لیا ہے اور کرم اس کے لیے کیوں ہوئی اور ان پیدا کردیتا ہے۔محسن و شلق و دلبری بر تو تمام سمجھتے بعد از تھائے تو حرام وفلق تو حسن و اخلاق اور دلبری مجھ پرختم ہیں تیری عاقات کے بعد پھر کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے آن خود مندی که او دیوانه ات شمع بر سر است آنکه او پرمانات ہے جو ترا دیوانہ ہے اور وسمح بزم ہے۔جو تیرا پروانہ ہے بر کره شقت در دل جهانش فقد ناگہاں جانے دو ایمانش متد ہر وہ شخص جس کے جان ودل میں تیر اشت داخل ہو جائے تو اس کے بیان میں ذرا جان پڑھاتی ہے مشق توگردو یہاں بودھ سے او نے تو آمد زیبام دکوئے اُد ہے براش اس کے چہرہ پن ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے درو دیوار سے تیری خوشبو آتی - د برادران نقش بخشی نو بود مرومه را پیش آرمی در سجود تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نہیں رکھتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے