دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 11

خاک اور تھا ار شوکش پر سے ز خلق دگر اگتے ہیں جملہ خلق زیر و زیبا اگر حقوق میں سے کوئی اس کا شریک ہوتا تو یہ تمام دنیا زیر و زیر ہو جاتی ر چه از وصف خاکی و خاکست ذات بچون امازال پاکست | نا کی مخلوق کی جو صفات ہیں اُس کی بے مثل ذات ان سے پاک ہے بند پر ہا سے ہر وجود نهاد خوردنه بر قید و بند هست آزاد ہر وجود کے لیے اس نے کچھ پابندیاں لگادی ہیں مگر خود پر قید اور پابندی سے آتا ہے آدمی بنده است و نقش بند اور دو صد حرص و آز سر بکھر آدمی غلام ہے اور اس کا نقص مقید ہے مدح خواہشوں اور لالچوں میں پھنسا ہوا ہے نچنیں بندہ آفتاب و قمر بند در سیرگاه خویش و منفر اسی طرح سورج اور چاند بھی مجبور ہیں اپنے اپنے راستوں پر چلنے کے لیے لاچار ہیں اه را نیست طاقت این کار که بتا بد بدون چون احرار ند کو اس امر کی قدرت حاصل نہیں کہ امر کی قدرت حاصل نہیں کہ وہ دن کو آزادانہ چمک سکے نیز خورشید را نه یارائے کہ بندر سریر شب پائے ہی طرح سورج کو بھی یہ قوت نہیں کہ وہ رات کے تخت پر قدم رکھ سکے آب هم بنده هست زینکه مدام پند در سردی است نے خود کام پانی بھی مجبور ہے کیونکہ ہمیشہ سردی میں جم جاتا ہے ۔ مرضی کا مالک تھیں ے تیر نیز بندہ آوا در چنہیں سوزشے گلدہ اور تیز آگ بھی اس کی تا بیدار ہے اللہ ایسی جلی میں اُسی کی ڈالی ہوئی ہے۔ چاند +