دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 127

آنکہ او یا مہ ہے ہر تحقیق در این قبیل است آدمی هرگز نما شد بست او به تو تبرخر لیکن یہ شخص تحقیق کے لیے نہیں آیا اور شمنی میں لگا ہوتا ہے وہ ہر گز آدمی نہیں بلکہ گڑھے سے بھی ہوتی ہے ابراین امری مه چهارم حاشیه در حاشیه صفحه ۱۴ ۱۵ احمدیہ رام ۲۱۸۸ اسے خالق ارض و سمانین در رحمت گشتان مانی تو اس در در مراکز دگران بیان کنم ورو اے خالق ارض و ما مجھ پر در رحمت کھول تو میرے اس درد کو جانتا ہے جسے میں اوروں سے چھپاتا ہوں ای طبی و برادر بزرگ و تار در این بوده ام را دل خوش تابستان هم اول خوشتر کنم ے دار تو یہ لطیف ہے میرے ہونگ ریش میں داخل ہوا کہ اب کے اپنے اور پاوں تو ان کی کمی زیاد در ترکی ور کرتی اسے پاک خوجال برکنم در ہجر تو دانسان ہے گریم کو ویٹ ٹالیے گراں کنم اور اور اسے نیک نیک صفات اور توانکار کرے تو تیرے فراق میں جان دے دونگا اور اور اتار آتنا دوں دوں گا گا کہ کہ ایک ایک عالم کو بتا دوں گا خوابی بیرم کن جدا خواهی بلطفم رو کا خواہی کیش پاکن رہا کتے رک کر یہاں کنم کیا کیا پا کر رکھا ہے خواہ اریا چھوڑیں تیرے اس کو نہیں چھوڑ سکتا ر براہین احمدیه مته چهارم مایه در حاشیه صفحه ۲۵۱۴ مطوع ۲۱۸۸۴ نے خدا سے بارہ آندائی یا اسے علاج گریہ ہائے تیار ہا اسے خدا۔ اسے ہمارے دکھوں کی دھا۔ او نماری کا علاج ے تو مهم کیش جاری شدن ، اے تو دلدار دل غم کیش ما