دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 123

۱۲۳ جان توراب را نخوردهای آب یاد از آب زندگی رو تاب پانی نہ پینے کی وجہ سے تو جاں بلب ہے۔پھر بھی آپ حیات سے منہ پھیر رکھا ہے۔کور مستنی دیکین پدیده در سال ده چه داری شقاوت و شهران خود تو اندھا ہے اور انکھوں والوں سے موتی رکھتا ہے تیری بریتی نو نقصان پر افسوس ہے۔ارہ نے درد دل و قلت ماست یک به دار شفائی وحی خدا است ورد دل کی دوا ہماری عقل نہیں ہے وہ دعا تو وحی الہی کے شفا خانہ میں ہے نشود مین در تصویر در در جهان است که قند به نظر کا تصور ہونا نہیں ہوا کرتا بلکہ سونا رہی ہے جو نظر آ جاتے بست بر عقل محبت الهام که از وبخت ہر تصقیه خام نتقال پر الہام کا یہ احسان ہے کہ اس کی وجہ سے ہر ناقص تصور پختہ ہو گیا ان اس گمان برد و این نمود فراز آن نهال گفت این کشور آن را از یس نے گنگا کیا اور اس نے کھل کھلاتا ہ کیا اس نے خفیہ کیا اور اس کے راز کو ظاہر کردیا اس فوریت این کیف بسپرد آن طمع داد و این بجا آورد ان نے گرا دیا اور اس نے ہاتھ میں دیا جس نے صرف لالچ دیا اور اس نے پورا کر دیا که بشکست سرتِ دل ما است وحی مندائے بے ہمتا وہ چیز میں نے ہمارے دل کے بوریت کو توڑ دیا دہ خدائے لاثانی کی وحی ہی تو ہے دہ کی اینکه ما را نرخ نگار نمود بست امام ہیں خدا کے درود در حین نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھا دیا دہ خدائے مہربان کا اسلام ہیں۔