دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 121
١٣ ازینکه آرام قلب و اطمینان جز با خبار صادقال نتوانی تب و مجوز با خیار کیونکہ سکون دل اور اطمینان قلب راست بانوں کی ہوائیوں کے سوا پیدا نہیں ہو سکتا نیز عمل واجب است در تعلیم که بقدر خرد بود تقسیمی نزیر کو علم کے لیے بھی ضروری ہے کہ شاگرد کی نقل کے مطابق سمجھایا جائے رسد ہر طبیعتے بخدا ا جرم ره گشاده اند دو تا تا رسد اس لیئے دو راستے کھول دیے گئے ہیں ۔ تاکہ ہر طبیعت کا انسان خدا تک پہنچ سکے تاذ کی و غیبی داشرت دوں وہ بیا بیند سوئے آل ہے چوں تاکہ ذہین اور نبی شریف اور ریل اس بے مثل خدا کی طرف ماہ پائیں دیگر این است نیز هم جہاں بر مصورات وحی آل رحمان ایک اور دلیل بھی اس رحمان کی وحی کی ضرورت پر یہ ہے کو چنین شهرت خدائے لگاں ہرگز از جمد منقل یا نتواں کہ خدائے واحد کی اس قدر شہرت صرف عقلوں کی کوشش سے نہیں ہو سکتی تھی کر نہ گفتے خدا انا الموجود چول فنتاس سے جہاں برش بسجود اگر خدا خود ہی نہ کرتا کہ میں سو برو ہوں تو سارا جہاں اس کے سامنے سر بسجود کیوں ہوتا این همه شور بستی آن یار که از عالم است عاشق زار م اس یار کی ہستی کے متعلق اس شور سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا عالم اس کا عاشق زار ہے خود بینداخت اس خدائے جمال بشر کرد بر سرش احسان یہ دشورہ بھی رب العالمین نے خود ہی ڈالا ہے نہ کہ آدمی نے اُس پر احسان کیا ہے