دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 113

۱۱۳ گر بر آتش در صد جگر سوزی نیست از قیاس پیروزی کو تو آگ پر دو سو گر بھی کہ اب کرنے کا بھی عقل سے کا میابی حاصل نہیں کر سکتا خبرے نیت نہ جانا نہ سے زنی ہرزہ گام کو دانہ تجھے ہے۔تو محبوب کی شہر بھی نہیں اور اندھا دھند بے ہودہ قوم مار رہا اس لیے کہ جنت وادار چال قیاس خودت شهد بکنار ول نهد ہ یقین ہو خدا تجھے بخشتا ہے یا نقلیں تیری پنی عقل تیرے پاس کب لا سکتی ہے۔ال کیے از دوران دلداری و نکتہ ہا سے شنید و اسرارے تو وہ ہے جس نے دلدار کے اپنے منہ سے سمجھنے اور اسرار اتنے و اس دگر از خیال خود بیگان پس کجا با شهدای دودکس یکسان اور دوسرا دہ ہو شک میں گرفتار ہے پس کس طرح یہ دونوں برابر جو سکتے ہیں اینکه مغروبه راه منطقونی تو نہ عاقل که سخت مجنونی ہے وہ شخص جو کسی اور گمان کی راہ پر مغرور ہے تو عقلمند نہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے اس غدار اگر دوست منت با بشمری زیر منبت عقلا خدا جو احسان کا سر چشمہ ہے تو اس کو عقلمندوں کا زیہ احسان سمجھتا ہے ای خانے بھی بے دلی نشست کو نیا است داده انده است ہے بوب خدا تیرے دل میں سمایا ہوا ہے ہو ایسا کرور لاچار اور موت ہے تاد از عاقلال مرد با یافت نتوانست کونے متقی شناخت | تانه عدد کو جب تک عقلمندوں کی طرف سے اسے دور نہ ملی تیک تیک دو مخلوق کی طرف نہ آسکا