دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 112
۱۱۲ اس مہیا کتنے نو یاد آورد تا خود نیز رو بکار آورد وہ با د بار روی یار کی طرف سے ایک تو بولا ئی یہاں تک کہ عقل بھی کام دینے لگی بار با آپ خود نگار آورد تا تخیل قیاس بار آورد کئی دن وہ مجوب خود پانی لایا۔یہاں تک کہ عقل کا درخت بار آور ہو گیا وقت پیش است و موسمی شادی توجه در سوگ و ما تم افتادی یہ تو بیش کا وقت اور نوشی کا موسم ہے۔تو کیوں ماتم اور سوگ میں پڑا ہوا ہے محمد ہارے بخواه از دادار تا دو خانه تو پر دریک دار ناخی خدا تعالے سے ایک ایسی آدھی مانگ کہ تیرا کھڑا کرکٹ یکدم اُڑ جائے اور خور و مه شکن نگیرد ماه توز دلدار خویش دیده بخواه توز سورج اور چاند کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوا کرتا تو اپنے محبوب سے آنکھیں مانگ گردی تا دے کہ سرتابی چون بوئی تو صدق دل یا بی تو اس وقت تک گمراہ ہے جبت لگے تو سکتی ہے جب بچے دل بستے تلاش کر گیا توں کو پائے گا۔یتی طالب حقیقت راز بیس میں شکل است اسے مان تو حقیقت کا طالب ہی نہیں ہے۔اسے کندہ ناتراش یہی تو مشکل بر وجودش ز صنعت استدلال این مجاز است نے جو اصل صال خدا کے وجود پر اس کی مستعفوں سے استدلال کرنا صرف مجاز ہے نہ کہ لش از آله مجازی نیست بادکن دیده جائے بازی نیست جس کا وصل مجازی دریعہ سے نہیں ہوا کرتا۔آنکھیں کھول یہ مذاق نہیں ہے ہے