دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 111
چشم ها در سالن جو بہت تعال است یک چشمه ز آپ نہ لال شود دور یہ حسن کیا عجیب ہے۔ یہ تو گویا مصفیٰ پانی کا ایک چشمہ ہے جہاں رسم دلبری جهاد کس چو او دلبری ندارد بیاد جب سے بیان میں جوابی کی رسم قائم ہوئی ہے کسی کے یقال میں بھی ایسا دلبر نہیں آیا ال شعاعی کرده شد است بیاں کس ندیده نه مهرومه به جمال وہ روشنی یشتی جو اس سے ظاہر ہوئی کسی نے اس دنیا میں سورج اور چائے میں بھی نہیں دیمی ند بر عقل خام نماز کنی چه کنم تا تو دیده بانه کنید کہاں تک تو ناقص عقل پر اتر آتا رہے گا میں کیا کروں تا ہے گا میں کیا کروں تاکہ تو آنکھیں کھولے نقص خود بنگر و کمال خدا دلت خویشتن حلال خدا تو اپنا نقص دیکھ اور خدا کا کمال دیکھ اپنی ذلت دیکھ اور خدا کا جلال دیکھ د رو منقل راه رب مجید کس ندید است کس نخواهد دید قل کے ذریعہ سے خدائے عزلہ سے خدائے بزرگ کا راستہ نہ کسی نے کبھی دیکھا اور نہ کبھی دیکھے گا ندر آنجا که سوختی با یاد چوں رہے از قیاس کی شاید ایسی جگہ جہاں جلنے کی ضرورت ہوں ہاں محض قیاس سے کس طرح راستہ کھل سکتا ہے۔ ا نشد و یا حق دور فرمان تا نیا ورد بو نیم صبا جب تک خدا کی وحی نے مدد نہ کی۔ اور جب تک بادِ بہار خوشیشو نہ لائی عقل را به آن چین نه بود خیبر طانیہ مکر بود سوخته پر نه آن اس وقت تک مقتل کو اس کمپنی کی خبر نہ تھی اور فکر کے پرندے کے پر چلے ہوئے تھے