دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 103

این بود حال و طوری اشتی ندارد این بود قدید دلبر اے مردار کیا عاشق زار کا حال ایسا ہی ہوا کرتا ہے اسے مردار کیا یہی دلیر کی 150 کی قدر ہے انتقال را بود ز صدق آثار اے سیه دل ترا عشق چه کار اشتوں میں تصدیق کے آنا پائے جاتے ہیں اسے یہ دل بھلا مجھے عشق سے کیا کام تانه تو هستی است بدر نرود تیم شرک از دل تو به فرود ی تک تیری خودی تجھ سے دور نہ ہو گی تب تک شرک کا بیج تیرے دل میں سے نہیں نکلے گا پائے سعیت بلند تر نمود تا ترا درد و دل بسر زود 2 تا دو یری کوشش کا نام ہو چاہیں پڑے گا جب تک تیرے دل کا عمال سترتک نہ پہنچ جائے یایه پیدا شود در اس ہنگام که تو گردی نہاں زخود بتنام یا۔اس وقت ظاہر ہوگا۔جب تو اپنے آپ سے پوری طرح غائب ہو جائے تاره سوزی نو سوز و غم زی تاثیری زموت ہم زبی نوسون ظلم نه نہی کے زمیں میلے سوند فخر سے نجات نہیں ایک کی ایک رہے گا نہیں ویسے بھی رانی نہیں پائے گا یست که بر جان بن کر درخت آتش محمد ولی بیان کر سوخت وہ ہاں دین کیسے پیدہ ہیں جو رشق میں نہیں جلتے ایسے دل کو آگ لگا دے جو نہیں جانتا کلبه جیم خود میکن بریلو جیوں نے گردو از خدا آباد اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کردے اگر وہ خدا سے آزاد نہیں ہوتی پائے خورد اما این این خویش چون نگیر دره صداقت پیش سے اپنے پیر کو کاٹے حال اگر وہ صداقت کا رشتہ اختیار نہیں کرتا اپنے جسم