دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 102

از چیت از پر دلت از هجراد کمیاب شود قیمت از نقش بر آب شود تیرا دل اس کے ہجر سے کباب ہو جائے اور اس کے جانے سے تیری رکھیں آنسو بہانے باز چون ال جمال و آل روئے شد نصیب دو چشم در کوئے پھر جب وہ حسن اور وہ چہرہ کسی گلی میں تیری آنکھوں کے سامنے آجائے دست در دامنش زنی بجنوں که نه نادیدنت دلم شد خون: ایا ہوا اس کا این پکڑ کر کہا ہے کہی ہے نہ دکھنے کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا این محبت بذره امکان وان دل انگور ناخدا نے یگان پترزه فضائے مخلوقات میں سے ایک ذرہ کے ساتھ تو ایسی محبت گندا کے لانانی کو تونے دل سے انار رکھا ہے لا ابالی فتاده نال یار فارغی نال جمال ونال گفتار تو میں یار سے بالکل بے پروا ہو گیا ہے اور اس کے جمال اور گفتار سے بے تعلقی اس مردگان را مے کشی کنار کار دل آسام زندہ بیزار را ہے مردوں کو تو گود میں لیتا ہے پر زندہ محبوب سے پیزالہ ہے کس از کی شنیدی که قانع از یارست عشق رهبران دو کار شمار ست یا تونے کوئی ایسا عاشق بنا ہے جو یار سے لیے پروا ہو عشق اور مبر دو نوں کا جمع ہونا مشکل ہے۔آنکه در قبر دل فرود آید دیده از دیدنش بنا ساید ور جو دل کی گرائیں میں اتر جاتا ہے تو پھر انکہ اس کے دیکھنے سے س کے دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی تو دل خود بریگیران داده یکسر از بار فارغ افتاده تر نے اپنا ولی دوسروں کو دے رکھا ہے اور ملک کی طرف سے بالکل لا پیدا ہو گیا ہے