دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 101
۔۔دیدہ آخر برائے آن باشد که بدو مرد راه دال باشند نکھیں آخر اسی کام کے لیے ہوتی ہیں کہ آدمی اُن سے راستہ ده چه این چشم بست و این دیده که برد آفتاب پوشیده یہ تیری آنکھ اور نظر بھی خوب ہے! کہ آفتاب اُسے نظر نہیں آتا گر بدل با شدت خیالِ خدا این چنین ناید از تو استغفنا اگر تیرے دل میں خدا کا خیال ہوتا تو اپنی لاپروائی تجھ سے ظہور میں نہ آتی از دل و جاں طریق او ہوئی وار سر صدق ہوئے او پوئی تو اپنے جان و دل سے اس کا راستہ ڈھونڈتا اور صدق سے اس کی طرف دوڑتا ہر کیا دل بود جلداری خبرش پر سد از خبر داری میں کا دل کسی معشوق سے لگا ہی ہوتا ہے وہ تو واقف کار سے اس کی خیر معلوم کرتا رہتا ہے۔گر نباشد لگائے جو بے جویہ از نزد پیار کتو ہے مجوب کی ملاقات میسر نہ ہو تو یایہ کے خط ہی کا طالب ہوتا ہے لے دل آرام تا یدش آرام که برویش نظر گئے بکلام اسے محبوب کے سا آرام میں آتا بھی اس کے منہ کو دیکھتا ہے کبھی اس کے کلام کو آنکه داری بدل محبت او نایدت صبر مجمز به صحبت اُد به شخص میں کی محبت تیرے دل میں ہے۔تجھے بغیر اس کی ملاقات کے صبر نہیں آتا فرقت او گر اتفاق افتد در تن و جان تو فراق افتد در تو اگر اس سے الفاقاً پیدائی ہو جائے تو تیرے بدن سے تیری جان نکلنے لگے