دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 96
امجد بیچی اوست کامل ذات علیه ما چون شود و او هیهات ہم سب بے حقیت ہیں اور دہی کا وجود ہے ا ا ا ا ا ر اس کے علم کی طرح یونکر ہوسکتا ہے قات ہوں کہ نام اوست خدا کے خیال خود رسد آنجا بے مثل ذات میں کا نام خدا ہے اس تک عقل کا خیال کیونکر پہنچ سکتا ہے۔نکه او آمد ست از بریار او رساند نیز داستان اسرار وہ جو خدا کے پاس سے آتا ہے وہی اس داستاں کے راز لوگوں کو پہنچانا نچه ما فی امیر تست نہاں کے چو تو داندیش و گرانسان جومات تیرے دل میں پوشیدہ ہے اسے دوسرا انسان نیری طرح کیونکر جان سکتا ہے پس تو مافی الضمیر آن دادار مثل او چون بدانی اسے غدار پھر وہ اس بات کو جو خدا کے خیال میں ہے اسے لیے وفا کیونکر اس کی طرح جان سکتا۔آنکه چشم آفرید تور و بر آنکه دل دا داو سرور دی میں نے آنکھ پیلیا کی وہی نور بخشتا ہے جس نے دل دیا وہی سُرور عنایت کرتا۔چشم ظاہر نہیں کہ چول از کرم خالقش داد نیر اعظم ظاہری آنکھ کو دیکھ کہ کس طرح اپنی مہربانی سے خالق نے اس کو آفتاب عطا کیا کود برائے مصالح دوران گاه پیدا نمود و گاه نہاں اورزانے کی بھائی کے لیے کبھی اُس آفتاب کو ظاہر کیا اور کبھی پوشیدہ کردیا ی نہیں است حال میموروں آقابش کامہ اس بے چوں مل۔باطنی آنکھ کا ہے۔اس کا آفتاب اس بے نظیر خدا کا کلام ہے