دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 97

94 یش ماته بشر که عقل بشر دارو اندر نظر مهزار خطر ایسے انسان ہوش کی کہ انسانی عقل کی بینائی میں ہزاروں خطرات نہیں سرکشیدن طریق شیطانی است در غلات مثبت انسانی است سرکشی شیطان کا طریقہ ہے۔اور انسانی فطرت کے برخلاف ہے تانه فعلش رو تو بکشاید صد فضولی لیکن چه کار آید جب کہ اس کا فضل تیری راہ نہ کر لے توکتنی ہی بے فائدہ کوششیں کرنے سب بے کار ہیں اور سرائہ چہ جائے استنباط شترے ہوں خود بستیم شیاط ایک رازوں میں قیاس کی گنجائش نہیں اونٹ سوتی کے ناکے میں کیونکر گھس سکتا ہے تو نه با خبراتاں کرتے تو نہ مانی جمالی ہوں دو نئے تو اُس کوچہ سے بے خبر ہے تو اس چہرے کے حُسن کو نہیں جانتا خبر سے دو بر دماں بچہ دہی ماہ تا دیده را نشاں چہ دہی پھر اس کے متعلق لوگوں کو کیا خبر دیتا ہے میں بلال کو تو نے دیکھا نہیں اس کا نشان کیا بتاتا ہے۔سخن یار و سینه افسرده جامه زنده است بر مرده دوست کی باتیں کرتا اور سینہ بجھا ہوا یہ تو ایسی بات ہے جیسے مردہ پر زندہ کا ناس گیری بیگ را بزرگ داند جنبش باد خواهدش افتند ادہ ریت کو روکتی ہیں اونچی جگر سے جاتے ہوا کی فسا سی حرکت اُسے وہاں سے گرا دے گی بیست مارا کے کہ ہر فیضان مے شود ناں محافظ این دیاں شونال جھانا ایک خدا ہے کہ ہرمیان ہو اس کی طرف سے ہے ہمارے جان و تن کا محافظ ہوتا ہے نے یعنی ریت کی عمارت