دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 93

۹۳ زرسی تا یقین نه راه قیاس همه بر تن د و هم بست اساس قیاس کی راہ سے تو یقین تک نہیں پہنچے گا اس کی تو سب بنیا د شک اور وہم پر ہے گر نیز فکر و نظر گدانه شنوی این نه مکن که اهل مازه شوی ار رو رو کر کرتے کرتے تو کھیل بھی جائے تب بھی ناممکن ہے کہ صاحب اسرار ہو جا۔گر در صد جان تو زنتن برود این ه مکن که شت و من برود ے بدن میں سے دوسو جانیں بھی نکل جائیں جب بھی ممکن نہیں کہ شک اور خلق دُور ہو است دانشئے دل کا مہ مندر کے شوی مست مجو کام تھا ولتی تسکین کا علاج خود کا کام ہے خدا کے جام کے سو تو مست کب ہو سکتا هست بر غیر را و آن بسته همه ابواب آسمان بسته اس کار است تغیر کے لیے مرد ہے اور آسمان کے سارے دروازے سے رقیہ کے واسطے ، بند نہیں نا نشد مشتعلے زیب پدید از شب تار جبل کس نہ رہید جب تک غیب سے کوئی مشکل پیدا نہ ہو تب تک حالت کی اندھیری رات سے کوئی رہائی نہیں پاتا باید اینجا نہ کبیر با دوری تو بعقل و قیاس مغروری جگہ تو تکبر سے بچنا چاہیئے۔مگر تو عقل اور قیاس یہ مغرور ہے۔ین پر خفت که خوش بوریس نمیشی و از خدا می گرفتند یشی یہ کیسی غفلت ہے کہ تو اپنے اس طریق پر خوش ہے اور کسی وقت بھی خدا سے نہیں ڈریم طلب کنی وصال یار به یا اینکه به زه به خود کن تنهام بعد پر نہ اور اس سے اس کا مل مل کر اور ہرگز اپنی طاق پر بھروسہ ذکر یار ہی وصل طلب