دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 92

۹۶ این راستاد نا قصت آموخت این برتر نداد و قیمت فروخت یے معقول اتارنے ہی تھے کیا سکھایا ہے اور خاکے کرتے تیری دونوں ان میں کی کر سی دی میں این همه از فکر خود خطا خوردی اول اتقان در دسے آور دی چه از خود درد انی تل کی وجہ سے تونے کیا اعلی کی بو نے تو شراب کے مکے میں سے پہلا اہم ہی کچھٹ کا نکالا جوان شد و عقل قصت پوندا ناک زادے جہاں پر دیر سما تی تقی عقل خدا کے برا کس طرح ہوتی ہے ایک خاکی وجود اڑ کر آسمان تک کی نکر پہنچ سکتا ہے۔آنے صدر ہو و صد خطا وارد علیم اس پاک از کجا آرد عقل جو خود در بار بود خطا میں بنتا ہے وہ اس خدائے پاک کا علم کہاں سے لائے سوکن را اشنا کنی هیهات این چه سود خطا کنی هیهات افسوس کہ تو کھولنے والی عقل کی تعریف کرتا ہے یہ کیا سہو اور خطا کر رہا ہے تجھ پر افسوس آنچه لنز د هر قدم صد باید چون نو در بار ساندت بکنار جو ہر قدم پر تو تو وقع الخرش کھاتی ہے وہ تجھے دریا میں سے کنار تنک کیونکہ پہنچا سکتی دفعہ دفعته این سراب بات ہوئے اس کتاب سے نماید یہ دور چشم آب عتقل ، تو سراب ہے اس کی طرف جانے میں جلدی نہ کر جو دور سے پانی کا چشمہ نظر آتی ہے کشتی شکسته است و خراب با افتاده و زنگ گرداب و از در | تیری کشتی شکستہ اور خراب ہے پھر بھنور کے چکر میں بھی پڑ گئی ہے تاز کن ناز کم کن برین چنین کشتی کم خامہ اسے ڈانی ہیں زشتی ایسے ایسی کشتی پر فخر نہ کر اسے ذلیل انسان اس بدصورتی کے باوجود مٹک کر نہ چل ہے