دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 338
۳۳۸ می در آنم که ترک اور گیم بیان میں بہت بیا به مه رویم تب بھی میں ایسا نہیں ہوں کہ اُسے چھوڑ دوں میرا وہ ماہ رو یار تو میری جان ہے ا رخت هرگز در کوچه اش بیرم بز مال دیگراند و من دیگرم میں اُس کی گلی سے اپنا ڈیرہ ہرگز نہ اٹھاوں کا نزول لوگ اور ہوتے ہیں اور میں اور ہوں کا رخم کرد عشق صورت یار از غم حملہ ہائے این اختیار محبوب کے عشق نے مجھے ہے پر دا کردیا ہے۔ان دشمنوں کے حملوں کے غم سے شورش عشق بہت ہر آنے تا کے خیر این گریبانے میرے اندر ہر وقت عشق کا ایک ہوش ہے دیکھیے یہ گومان کب تک سلامت رہتا ہے۔اهمان را خبر بد عالم نیست گتے ہوئے اس زلالم نیست نصیحت کرنے والوں کو میرے مال کی کچھ خبر نہیں۔میرے مقا پانی کی طرف ان کا گذر نہیں ہوا آدم ہوں سحر بلوی نور تا شود تیرگی نہ تورم دور یں نور کا ایک امان سے گرمی کی طرح آیا ہوں تاکہ بہ اندھیر میرے نور کی وجہ سے دور ہو جائے شور انگنده ام که تازین کار خلق گرد از خواب خود بیدار میں نے شور بر پا کر رکھا ہے تاکہ اس کی وجہ سے خلقت اپنی نیند سے بیدار ہوجائے غافلان من تو یار آمده ام ہمچو باد بهار آمده ام تو اے غافلہ میں محبوب کے پاس سے آیا ہوئی اور باد بہار کی طرح آیا ہوں ہے این زمان زمانه گلزار موسیم لالہ زاره وقت بهار یہ میں نہ مانہ گزار کا زمانہ ہے۔یعنی کار زار کا موسم اور بہار کا وقت ہے۔