دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 337
٣٣٤ عاشق در شدند دولت و جاه دل تنی از محبت اس شاه ہ وہ مال دولت اور عزت کے عاشق ہو گئے تھے اور پول اس بادشاہ کی صحبت سے خالی تھا۔میں روز بائے چوں شب تار قوم را دید حق بحالت زار تار تقوم متق ان قم میں جوان میری بات کی طرح کے تھے خدا نے ہماری قوم کی حالت زار میں دیکھا پس مرا از جهانیان بگزید در دلم روح پاک خویش رسید در دلم رامین پس مجھے اہل دنیا میں سے چھین لیا اور میرے دل میں اپنی پاک وہی پھونکی در ول من ز عشق شور انگلند خود مرا شد ست هر پیوند میرے دل میں عشق کا جوش ڈال دیا وہ آپ میرا بن گیا اور تعریق غیر کا توڑ ڈالا کرد دیوانه و خرد با داد لیست یک در هزار در بکشان مجھے دیوانہ کر کے تعلیں بخشیں اور ایک دردانہ بند کر کے ہزاروں دروازے کھول دیے خلق و مردم نصیحتم کنند تا بیرم زیاد خود پیوندها مخلوق اور لوگ مجھے نصیحت کرتے ہیں کہ میں دوست سے تعلق منقطع کرنوں من نیم کو رتا جو کورانے بگرینجر ہے تو بتانے چو میں نا بینا نہیں ہوں کہ اندھوں کی طرح باغ چھوڑ کر کنویں کو اختیار کر لوں اں بزنانہ کا عطیہ یار چوں نہ دست انگلیم بے مروار وہ تازہ میوہ ہو محبوب کا عطیہ ہے میں اُسے اس مردار دنیا کے لیے کیونکہ ٹھیک دادن سر کر جانے دشمنی نیزد تنسیخ گیرد که خون من ریزد اگر ایک جہان میری تینی پہ کھڑا ہو جائے اور تلوار پکڑ لے کہ میرا خون گرا دے