دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 20
لی خداوندش باد آن شروع دویں کان گردد تا ابد میرے باد آب این منانے اسے وہ شریعت اور دین عطا کیا۔جو کبھی بھی تبدیل نہ ثافت اول به دیار تازیان تا زیانش را شود دوریاں گی پہلے وہ تعریف کے ملک پہ یہ نگار تاکہ اُس ملک کی خدا ہیوں کا انسداد کرے بید زال ابن نور دین و شریع پاک شد محیط حالے چوں چنبرے نان آن زمردین بعد المال وہ نور اور پاک شریعیت تمام عالم پر آسمان کی طرح مجید ہوگئی خلق را بخشید از حق گامیر جہاں دوا ربانیده از کام اللہ درے خلوق کو خدا کی طرف سے مقصد نہ زندگی سخت اور ایک اثر ہے کے منہ سے اُسے لڑائی دلائی یک مار پیراں اگر وشابان وقت ایک رات مبہوت سرد انشور ایک طرف شنا بان وقت اُس سے حیران تھے۔دوسری طرف ہر کمند شندر تھا۔شاہان۔نے بلش کسی رسید و نے بزور در شکستہ کبر ہر منکر اور نہ اس کے علم تک کوئی پہنچا نہ اس کی طاقت پیک موس نے رشک کر کے تکبر کو توڑ کر رکھ دیا اوچر سے دارد بدرج کس نیاز مرح او خود فخر بر بیت گرے اسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اس کی طرح ہر وخت کر کے لئے باعث فخر ہے است او در ره شهر قدس و جلال اواز خیال باد حال بالا ترے پاکتر گی اور جمال کے گستان میں ممکن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالاتر ہے اسے خدا بر دے سلام مارسال ہم پر اخراش نہ ہر پیغمبروے اے خدا ہمارا سلام اُس تک پہنچا دے۔نیز ہر پیغمبر پہ جو ان کا بھائی ہے