دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 194

۱۹۴ ے میزان نوین میں اس کا ایست که بعد را میبرد شود انسان را واتین کی دو ایسا لیا ان کا ہے کرانا ہے اور ان کے لیے یہ بھی امام نہیں کرسکتا آئینہ کمالات اسلام آشوری معلومات ۱۴ نوان تست بیان میں اسے یار محسن اس کام فرق تو کردی که می کند دیدی می ے میرے بھی دوست میری بیان جو پر توالی ہے تونے مجھ سے کون سا فرق کیا ہے کہ میں تجھ سے پر طلب مراد که می خواستمر غیب سر آرزو که بود به خاطر میتینه اور مراد المد وہ ہو میں نے غیب سے طلب کیا۔اور ہر خواہش ہو میرے دل میں تھی ہر د وادہ ہم آن بنائے میں اور لطف کرده گذر خود می کنم نے آتی مہربانی سے میری دور مرادیں پوری کر دیں اور مہربانی فرما کر تو میرے گھر تشریف لایا پیچ رنگی نبود و عشق و وفا مرا نخود در خیتی متناع محبت بدانم جھے عشق و دونا کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔تونے ہی شود محبت کی یہ دولت میرے دامن میں ڈال دی ی خاکی روی تو خود اکبر کرده بود آن جان تو که مورد است استم اس سیاہ مٹی کو تو نے خود اکسیر بنا دیادہ صرف تیرا کی جاتی ہے جو مجھے اپیالی ان مقال ولمن هم در دقیقه است خود کرد و بلطف و عنایات رو تنم تیم یس سال کی مالی را در کثرت عبادت کی جیسے نہیں یا تونے مجھے آپ اپنی رانوں سے بیان کر دیں مد ستین شب خاک میں یقین الطلب ٹیم تو ہم تخرا کی ناک اون که سے سیکڑوں احسان بین تیری مہربانیوں سے میر حجیم و جان تیری باری ہے