دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 193

دارد جا به بستان محمد ا میں انسان قدیس میں سے رہائی پرندہ ہوں محمد صلی الہ علی وسلم کے باغ میں بسیرا کھاتا ہے تو جان ما منور کردی از عشق ندایت جانم اے جان محمد تو نے عشق کی وجہ سے بھاری جان کو پیش کر دیا ہے محمدصلی اللہ علیہ مسلم مجھ پر میری جان فدا ہو در بنا گرد هم صد جان در بین راه نباشد نیز شایان محمد اس راہ میں وجان سے قران پر ہوا تاہم اس سے اگر یا مالی والی ایک کی شان کے شایاں تھیں جه هیبت با ید و ندای جمال را که ناید کس به میدان محمد میدادند این سرا اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدصلی الہ علیہ وسلم کے میدان میں کو بھی الفاظ پر نہیں آتا الا اسے دشمن نمادان و به راه بترس از تبی تهران محمد تیچ ے نادان اور گراہ تین ہوشیار ہوجا۔اور محمدصلی الہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر ویمن جود در آن و اعوان محمد رو مولی که گم کردند مردم تا کے اس راستہ کو جیسے لوگوں نے بلایا ہے تو مرہ کی سوالیہ کر کے آل اور انصار میں دو ڈھا الا اسے مشر از شان محمد ہم از نور نمایان محمد ا را روی صلی اا ا ا ا ا ا ا ا ر م یا اسی کے لیے ہو کے ر کا ا ہے کئے تو کرامت گرچہ بے نام ونشان است بیا بنگر نہ غلات A کر است این مفقود ہے۔گر تو آ اور اسے محمد صلی الہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھے ر آیینه کمالات اسلام آخری متعهد است به مونه ۳ ۹ ماه سے یہ الہائی شعر ہے