دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 10

منتصف ! ہمہ صفات کمال بریز از اختیاج ہل و جمال وہ تمام صفات کاطر سے صفات کمالہ سے متصف اور آل و د ان کے جھمیلوں سے بے نیاز ہے اید یکے حال جست و حال به نیابد بدو فتا و زوال دہ ہر زمانہ میں ایک ہی حال پر قائم ہے۔تھا اور زوال کا اس کے حضور گزر تھیں نیست اگر ہوں پھر سے میری اور یوں ہے کوئی شے اس کے حکم سے یا نہیں ہے۔وہ کسی ہے ملا ہے اور وکسی کی مانند ہے توان گفت لامس اشیاست نے توان گفتن اینکه دور از ماست نھیں کر سکتے کہ دو چیزوں کو چھوتا ہے۔دیر کر سکتے ہیں کہ وہ ہم سے دور ہے۔قات او گرچه دست بالاتر استمال گفت نه برداراست و گرام اس کی ذات اگر پر سب سے بالاتر ہے گر تھیں کہ سکتے کہ اس کے پچھے کوئی اور چیز بھی ہے۔برمی آید بفهم و عقل دو مینا ملاقات اور برتر است نال وسواس جو کچھ تم عقل اور قیاس میں آسکتا ہے اس کی ذات ہر اس خیال سے بالا تر ہے دات پیچون و چند افتاد سنت اور حدود و قیود آزادست اس کی ذات ہے مثل پاور ماتا ہے اور حدود و قیود سے آزاد ہے و جو دے ہرات اور انباز | نہ کسے در صفات او انباز کوئی وجود اُس کا ہر تھیں نہ کوئی اُس کی صفات میں اس کے ماہر ہے امید از دست قدرے او اکثرت شمال گواه و صد تار کچھ اس کی قدرت سے پیدا کیا ہے؟