دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 18 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 18

در عدن (۳) مندرجہ بالا ہر دو بند تو عام احسانوں کے ذکر پر مشتمل تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے ہر ایک حقیقی فیض یاب ہونے والا اور آپ کا سچا پیر و حاصل اور محسوس کرتا ہے مگر ذیل کا بند محض رحمتہ للعالمین کے ” عورت کی ہستی پر گراں بار احسان کی یاد دہانی کے لئے ہے اور صرف ہماری صنف سے متعلق ہے۔مبارکہ کے رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں ، جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبرائی تھی یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی کیا تیری قدر و قیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی! تھا موت سے بد تر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی 18