دُرِّ عَدَن — Page x
111 در عدن پاکبازی اور تقویٰ شعاری کی تعریف خدا کے مقدس مسیح نے ان الفاظ میں کی تھی۔” مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو اور حضرت مسیح موعود العلا کا یہ رشک اللہ تعالیٰ کی جناب میں قبول ہوا اور اللہ تعالیٰ نے نواب صاحب موصوف کو آپ کا نسبتی بیٹا اور آپ کو ان کا نسبتی باپ بنادیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود العلی کو ایک خواب میں دکھایا گیا کہ: مبارکہ پنجابی زبان میں بول رہی ہے۔مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ میں ایسی آئی جس نے ایہ مصیبت پائی یعنی آپ کا وجود نہایت خیر و برکت کا موجب ہوگا۔آپ کے کلام کو پڑھنے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مقصود شعر گوئی نہیں بلکہ ضرورت پر اپنے جذبات کو نظم میں ظاہر کر دینا ہے۔کیونکہ نظم اثر انداز ہونے میں نثر پر فوقیت رکھتی ہے۔آپ کے کلام میں تصنع بالکل نہیں جو خیالات دماغ میں آئے ہیں ان کو بے تکلف عام فہم سلیس زبان میں نظم کا جامہ پہنا دیا گیا ہے۔یہ ظاہر کر دینا بھی ضروری ہے کہ اشعار لکھنے والے اپنے اشعار پر استادوں سے اصلاح لیا کرتے ہیں اور عام طور پر یہی دستور چلا آتا ہے لیکن یہ مجموعہ کلام کسی حک و اصلاح کا رہین منت نہیں ہے۔مسلم خواتین اور شعر آنحضرت ﷺ کی صحابیات میں سے حضرت خنساء جو نہایت بلند پایہ شاعرہ تھیں اپنے دیوان کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔ان کے علاوہ بعض اور صحابیات کا بھی منظوم کلام پایا جاتا ہے۔مثلاً فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ اور حضرت اسماء بنت ابی بکر الصدیق اور حضرت عاتکہ وغیرہ رضی اللہ عنہن۔