دُرِّ عَدَن — Page xi
در عدن iv لیکن ہماری جماعت میں شاذ نادر ہی کوئی خاتون ایسی ہوگی جو اپنے دلی خیالات اور جذبات کو منظوم کلام کی صورت میں بیان کرتی ہوں۔اس کی اصل وجہ جو میں خیال کرتا ہوں کہ احمدی خواتین کی عدم توجہی ہے ورنہ تعلیم کے میدان میں تو وہ بفضلہ تعالیٰ دوسری خواتین سے سبقت لے گئی ہیں۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے منظوم کلام کا مجموعہ شائع کرنے سے الشركة الاسلامیہ کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ احمدی خواتین اس طرف توجہ کریں تا وہ نثر کے علاوہ منظوم کلام میں بھی اسلام کی خوبیاں بیان کر سکیں اور قومی اور ملی ترقی میں اس جہت سے بھی حصہ لے سکیں۔بعض اوقات منظوم کلام لوگوں کے دلوں پر وہ اثر ڈالتا ہے جو نثر نہیں ڈال سکتی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود العلی کو یہ توفیق بخشی کہ آپ اسلام کی سچائی کے دلائل اور قرآنی حقائق و معارف اور اپنا دعویٰ اور اس کی صحت کا ثبوت نظم ونثر دونوں ہی میں اکمل صورت میں بیان کرسکیں۔مگر شعر کہنے سے وہی مقصود ہونا چاہئے جو ہمارے آقا و مولا حضرت مسیح موعود العﷺ نے فرمایا ہے یعنی۔دسمبر ۱۹۵۹ء کچھ شعرو شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے خاکسار: جلال الدین شمس