دُرِّ عَدَن — Page 46
در عدن جو ٹوٹ کر گئے ہیں اسی آسمان سے پھر لوٹ کر ادھر وہ ستارے کب آئیں گے صحن چمن سے ”گل“ جو گئے مثل ” بوئے گل“ رحمت کی بارشوں سے نکھارے کب آئیں گے زخم جگر کو مرہم وصلت ملے گا کب ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے کب آئیں گے دیکھیں گے کب و محفل كَالْبَدْرِ فِي النُّجُومِ وہ چاند کب ملے گا وہ تارے کب آئیں گے دو کب پھر ”منار شرق“ پہ چمکے گا آفتاب ”شب کب کٹے گی دن“ کے نظارے کب آئیں گے کہتا ہے رو کے دل شب تاریک ہجر میں وہ ”مہر و ماہتاب تمہارے کب آئیں گے؟ 46 (ماہنامه درویش قادیان ستمبر ۱۹۵۱ء)