دُرِّ عَدَن — Page 91
91 در عدن حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی یاد میں مبارک آمدن ، رفتن مبارک 1 میں حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب حضرت خلیفہ اصسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔گزری ہوئی یادوں نے تازہ ہو کر تصور میں آکر مجھے زمانہ ماضی میں پہنچا دیا تھا، دل درد فراق سے بے چین و بے قرار ہو رہا تھا کہ خود بخود بغیر کسی شعر کہنے کے ارادے کے حسب ذیل مصرع قلب میں گزرا۔اس پر چند اشعار ہو گئے جوارسال ہیں۔مبارکہ۔] بشارت دی مسیحا کو خدا نے تمہیں پہنچے گی رحمت کی نشانی ملے گا ایک فرزند گرامی عطا ہو گی دلوں کو شادمانی وہ آیا ساتھ لے کر فضل“ آیا بصد اکرام شاه دو مٹا کر اپنی ہستی راہِ حق میں جہاں کو اس نے بخشی زندگانی یہی مدنظر تھا ایک مقصد جہانی برائے دینِ احمد جانفشانی رہی نصرت خدا کی شامل حال گزاری زندگی با کامرانی ہمیں داغ جدائی آج دے کر ہوا حاضر حضور یارِ جانی جو اُس نے ”نور“ بھیجا تھا جہاں میں ہوا واصل وہ جس کے قلب و روح و تن مبارک مبارک آمدن ، رفتن مبارک به رپ جاودانی (الفضل ۱۸؍ دسمبر ۱۹۶۵ء)