دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 38 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 38

در عدن بٹھا دے گا دل میں محبت خدا کی تمہیں اسی راسته بنا دے گا انسان طیب ملا در گا تم کو آخر خدا سے نکل جائیں گے دل کے ارمان طیب پر چلو میری پیاری یہی راہ ہے سب میں آسان طیب رہو دل ހނ مقابل میں اسلام کے سارے مذہب یہ مردے ہیں، لاشیں ہیں بے جان طیب تم دین کی اپنے شیدا کرو جان تک اس قربان طیب مسلمان جہاں کام دے گی نہ اے بی نہ سی ڈی وہاں کام آئے گا قرآن طیب بن کر دکھانا جہاں کو مسلمان طیب بنانا بہت ނ خدا سے دعا ہے کہ بن جائے اس کی مری پیاری طیب مری جان طیب (آمین) اس زمانہ میں عزیزہ کوانگریزی کا بہت شوق تھا اور انگریزی سکول میں جانے کا ارمان۔مبارکہ نوٹ :۔یہ بہت پرانی نظم ہے لیکن چھپی ” مصباح ۱۹۴۷ء میں ہے۔38