دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 78 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 78

78 (4) کسی عزیز لڑکی نے مصرع طرح غالب کا دے کر چند اشعار کہلوائے تھے، وہ بھی پانچ چھ لکھے ہوئے مل گئے ہیں] پھر دکھا دے مجھے مولا میرا شاداں ہونا خانہ کا میرے رشک گلستاں ہونا ان کے آتے ہی مرے غنچۂ دل کا کھلنا اس خزاں کا مری صد فصل بہاراں ہونا خلقت انس میں ہے انس و محبت کا خمیر گر محبت نہیں بیکار ہے انساں ہونا قابلِ رشک ہے اس خاک کے پتلے کا نصیب جس کی قسمت میں ہو خاک در جاناں ہونا رو کے کہتی ہے زمیں گر نہ سنے نامِ خدا ایسی بستی سے تو بہتر ہے بیاباں ہونا“ فعل دونوں ہی نہیں شیوہ مردِ مومن رونا تقدیر کو، تدبیر نازاں ہونا لله الحمد چلی رحمتِ باری کی نسیم دیکھنا غنچہ دل کا گل خنداں ہونا در عدن