درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 46
صعودِ او ہمہ سُوئے فلک بود ہر دم وجود او ہمہ رحمت چو مصطفے sa'oode oo hame soo'ey falak bowad har dam wojoode oo hame rehmat choo Mostafaa baashad باشد اُس کی پرواز ہر وقت آسمان کی طرف ہی ہوتی ہے اور اُس کا وجود مصطفیٰ کی طرح سراسر رحمت ہوتا ہے خبر دهد ز قدومش خدا بمصحف پاک هم از رسول سلامے بصد ثنا باشد khabar dehad za godoomash khodaa bemoshafe paak ham az rasool salaamey basad sanaa baashad خدا اُس کی تشریف آوری کی خبر قرآن مجید میں دیتا ہے اور رسول کی طرف سے بھی سینکڑوں ثنا اور سلام بھیجے جاتے ہیں متابد از ره جانانِ خود سر اخلاص اگر چه سیلِ مصیبت بزور ها باشد nataabad az rahe jaanaan-e khod sare ikhlaas agarche saile moseebat bazoor-haa baashad وہ اپنے معشوق کی راہ میں کبھی اخلاص میں کمی نہیں آنے دیتا۔خواہ مصیبتوں کا طوفان کتنے ہی زوروں پر ہو براہِ یار عزیز از بلا نه پرهیزد اگر چه در رو آن یار اژدها باشد اگرچه baraahe yaare 'azeez az balaa na parheezad agarche dar rahe aaN yaar aydahaa baashad اُس عزت والے دوست کی راہ میں وہ کسی بلا سے نہیں ڈرتا خواہ اُس یار کے راستے میں اثر رہا بیٹھا ہو کند حرام همه عیش و خواب را بر نفس چو جمله عارف و عامی در یں بلا باشد choo jomle 'aarefo 'aami dareeN balaa baashad konad haraam hame 'aisho khaab raa bar nafs وہ نیند اور عیش کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جبکہ سب نیک و بد اس عیش و عشرت کی بلا میں گرفتار ہوتے ہیں 385