درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 192

(76) مرانہ زہد و عبادت نہ خدمت و کاری است maraa na zohdo 'ibaadat na khidmato kaarey ast ہمیں مرا است که جانم رہین دلداری است hameeN maraa ast ke jaanam raheene dildaarey ast میرے پاس نہ زہد ہے، نہ عبادت ، نہ خدمت نہ اور کوئی کام صرف ایک بات ہے کہ میری جان اُس دلدار کے پاس گرو پڑی ہوئی ہے چه لذتی است برویش کہ جان فدایش باد che lazzatory ast boatorash ke jan " چه راحت است بکولیش اگر چه خوں بارےاست jaaN fedaayash che raahatey ast bekooyash agarche khooN baarey ast اُس کے چہرہ میں ایسی لذت ہے کہ جان اُس پر قربان ہے اُس کی گلی میں عجب لطف ہے اگر چہ وہاں خون کی بارش ہوتی ہے مسیح وقت مرا کرد آنکه دید این حال Maseehe waqt maraa kard aaNke deed eeN haal به بین دلائل دعوی اگر چه بیکاری است bebeen dalaa'ile da'waa agarche bekaarey ast خدا نے جب میرا یہ حال دیکھا تو مجھے مسیح الزمان بنا دیا اب تو میرے دعوے کے دلائل دیکھ گو ( تیرے نزدیک ) یہ بیکار ہیں دوائے عشق نخواهم که آن ہلاکت ما است dawaa'ey 'ishq nakhaaham ke aan halaakate maa ast شفاء ما بہ ہمیں رنج و درد و آزاری است shefaa'e maa be hameeN raNjo dardo aazaarey ast میں عشق کا علاج نہیں چاہتا کیونکہ اس میں ہماری ہلاکت ہے ہماری شفا تو اسی رنج و درد اور بیماری میں ہے ( تشحید الا زمان یکم ستمبر 1906) 527