درثمین فارسی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 369

درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 138

لیکن این ست بخشش یزداں تا نه بخشند یافتن نتواں taa na bakhshaNd yaaftan natowaaN leekan eenast bakhshishe yazdaaN لیکن یہ خدا کی بخشش ہے جب تک اُدھر سے مہربانی نہ ہو۔اپنی کوشش سے یہ بات نہیں ملتی آں کسان را عطا شود ز خُدا کز کمند خودی شوند رہا aaN kasaaN raa 'ataa shawad ze khodaa kaz kamaNde khodi shawaNd rahaa یہ مقام خدا کی طرف سے ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو خودی کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں کلام حق بروند zeere hokme kalaame haq berawaNd وز فرامین او بروں نشوند waz faraameene oo berooN nashawaNd خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلتے ہیں اور اس کے فرمانوں سے باہر نہیں ہوتے دیگری را نمیدهند اینجا ور دہندش ثبوت آں بنما war dehaNdash soboote aaN benmaa deegarey raa namidehaNd eeNjaa اور لوگوں کو یہ مقام نہیں ملتا اگر ماتا ہے تو ثبوت پیش کر غیر را آں وفا و مهر کجا زہد خشک ست غایت ghair raa aaN wafaa-o mehr kojaa عقلا zahd khoshkast ghaayate 'oqalaa غیر میں وہ وفا اور محبت کہاں ہوسکتی ہے۔عقلمندوں کا انتہائی مقام زہد خشک ہے عاقلانے کہ بر خرد ناز اند بے خبر از حقیقت و رازند 'aaqlelaaney ke bar kherad naazaNd bekhabar az haqeeqato raazand وہ کمند جواپنی عقل پر نازاں ہیں در اصل وہ حقیقت اور ( خدائی ) رازوں سے بے خبر ہیں 135