درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page i
فارسی مع نقل صوتی (ٹرانسلنزیشن) اردو تیمار فرهنگ افر این بود بخدا سخت کا فرم ستکام دل گر آمد بیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی خصوصیات کے بارے میں حضرت میاں عید الحق رامہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ا۔آپ کے کلام میں ایک عجیب کشش پائی جاتی ہے۔جو قاری کو خدا رسول اور پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے۔اس کا تجز یمکن نہیں۔نہ اس کے ثبوت میں کوئی دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں ویسے خاکسار کو یقین واثق ہے کہ جو شخص بھی اخلاص سے اس درنین کا مطالعہ کرے گا وہ ضرور اس کشش کو محسوس کرے گا۔۲۔آپ نے اپنے کلام کو اپنے مشن یعنی احیائے اسلام کی تبلیغی تیک محدود رکھا۔کسی بادشاہ یا امیر کی مدح نہیں کی۔اگر کسی کو سراہا تو محض اس کی دینی خدمات کے لئے اور بس۔۔دوسرے اساتذہ نے بیٹنگ محمد اور نعت تو بیان کی ہیں لیکن قرآن کریم کی طرف بہت کم بزرگوں نے توجہ کی ہے اس کے بالمقابل حضرت اقدس نے بار بار بالتفصیل اس مقدس کتاب کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔اور ہمیشہ پر زور الفاظ میں اس صحیفہ ہدایت پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے رہے۔۴۔نعت میں بھی دوسرے اساتذہ آنحضرت ﷺ کی بنیادی خوبی اور برتری ( یعنی آپ کا ذات باری تعالی سے والہانہ عشق اور آپ سے اللہ تعالی کی محبت ) کے ذکر کو عموما تنظر انداز کر گئے۔اس بارے میں ان کے کلام میں کہیں کہیں اشارے تو ملتے ہیں لیکن بالاستیعاب اس اہم ترین خوبی کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔البتہ حضرت مسیح موعود نے اپنے منظوم کلام میں بھی اور منشور کلام میں بھی اس دو طرفہ محبت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے ہیں لطیف پیرایوں میں فرمایا۔125 2020021e 471