درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 61 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 61

اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنی شہوات غیبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جائے لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے : آسمان باید امانت نتوانست کشید : قرعه فال بنام من دیوانه زدنده اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام (۱۷۴) اسی طرح ہندی سے مراد شدت عشق کی دیوانگی ہے جو ہر قسم کی جرأت پر آمادہ کرتی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس نے اپنی ایک تقریر میں جائی کا یہ شعر نقل کیا ہے : نومید هم مباش که مندان باده نوش به ناگاه بیک خودش بمنزل رسیده اند که یہی وجہ ہے کہ بعض بزرگوں نے اپنے آپ کو رند قرار دیا ہے۔مولانا روم کا ایک شعر قبل ازیں ص پر گذر چکا ہے۔حافظ شیرازی فرماتے ہیں :اے عاشق درند و نظر بازم میگوئم فاش : تابدانی که بچندین هنر آراسته ام که حضرت اقدس اسی جرات رندانہ کے اظہار کے لئے فرماتے ہیں۔کہ مجھے نہ اپنی جان جانے کا خون ہے نہ عزت برباد ہونے کا فکر ہے۔اسے مالک میں تیرا سچا عاشق ہوں۔اس لیئے کسی چیز کی پروا نہ کر تے ہوئے اسی دھن میں ہوں کہ اپنے آپ کو تجھ پر فدا کردوں کیونکہ سچی اور لے : آسمان اس امانت کا بوجھ نہ اٹھا سکا، اس کام کا قرعہ فال مجھے دیوانہ کے نام پر ہی نکلا۔نا امید بھی مت ہو کیونکہ محبت الہی کی، شراب پینے والے وہ بعض اور اچانک ایک ہی نور اس سے اپنی ماد و پنچ گئے ہیں: سے میں صاف کہتا ہوں کہ عاشق ہوں ، رند ہوں۔نظر باز ہوں تا تجھے معلوم ہوکر میں کتنے ہنروں سے آراستہ ہوگیں :