درثمین فارسی کے محاسن — Page viii
کسی کو اسکی حیثیت کے مطابق حصہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ان حالات میں رشوت لینے سے انکار کا مطلب باقی افسروں سے دشمنی لینے کے مترادف تھا اور ٹھیک طرح سے کام کرنا بھی ناممکن ہو جاتا۔آپ دہلی جا کر چوہدری محمد علی صاحب سے ملے جو بعد میں پاکستان وزیر اعظم بھی بنے۔اور فوری تبادلے کی درخواست دی۔رامہ صاحب کے چوہدری محمد علی صاحب کے ساتھ دیر بینہ تعلقات تھے اور وہ اس وقت محکمہ اکاؤنٹ میں اعلیٰ افسر تھے۔انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی تعیناتی کو چند دن ہوئے ہیں قانون کے مطابق تبادلہ ممکن نہیں۔یہ صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب کسی افسر کا نا اہلی کی وجہ سے تبادلہ کر دیا جائے۔محترم عبدالحق رامہ نے اصرار کر کے جبری تبادلہ کروالیا اسطرح آپ کی ترقی کافی پیچھے جاپڑی مگر آپ نے کبھی اس پر ملال نہیں کیا۔اسطرح ساری زندگی انہوں نے یہ خیال رکھا کہ کمائی میں ایک پیسہ بھی ناجائز شامل نہ ہو۔آپ 1954ء میں ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ریٹائر منٹ سے پہلے ہی آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں زندگی وقف کرنے کی درخواست دے دی تھی اس کے بعد حکومت نے آپ کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کر دی لیکن چونکہ آپ کو نظارت بیت المال کا کام سنبھالنے کا حکم مل چکا تھا اس لئے آپ ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے کر ربوہ حاضر ہو گئے۔اور زندگی کے آخری سانس تک بشاشت قلب سے جماعت کی خدمت میں مصروف رہے۔1973 ء تک محترم رامہ صاحب نے بطور ناظر بیت المال، ناظر زراعت، اور اسکے علاوہ ممبر مسجد اقصیٰ کمیٹی، فضل عمر فانڈیشن ، نصرت جہاں اسکیم اور کئی دوسری ذمہ دار حیثیتوں میں جماعتی خدمات سرانجام دیں۔اسکے بعد علمی کاموں کا سلسلہ آخری دم تک جاری رہا۔نظارت بیت المال کا کام آپنے بڑی محنت اور لگن سے جدید بنیادوں پر استوار کیا۔خدا تعالیٰ نے غیر معمولی محنت کرنے کی توفیق عطا کی تھی۔رات دیر تک جماعتی کاموں میں مصروف رہتے تھے۔اور صبح فجر کی اذان کیساتھ اٹھ کر ادایگی نماز اور بآواز بلند تلاوت قرآن کے بعد میز پر کام کے لئے بیٹھ جاتے (IV)