درثمین فارسی کے محاسن — Page vii
17 تھی۔تقسیم ہند کے فورا بعد کراچی میں جماعت کا غیر معمولی اضافہ ہوا اور جماعت احمدیہ کے افراد کراچی کے طول و ارض میں آکر آباد ہوئے۔انہی آنے والوں میں محترم عبد الحق رامہ بھی تھے جو دہلی سے تشریف لائے اور جماعت کے سیکرٹری مال مقرر ہوئے۔یہ ملٹری اکاؤنٹس کے آدمی تھے ساری عمر ہندوستانی فوج کے مالی معاملات کو کنٹرول کیا تھا اسلئے مالی معاملات کا بہت وسیع تجربہ تھا اس کے ساتھ مخلص ، انتھک کام کرنے والے اور مالی سوچ میں گہری نظر کے حامل تھے۔انتظامی قابلیت بھی بہت تھی۔کراچی کو کئی حلقوں میں تقسیم کر کے ایسے رنگ میں محصل مقرر کئے تا چندہ دینے والوں کو سہولت رہے اور جماعت کے اموال بھی محفوظ رہیں۔اس سارے کام کی بنیادیں اس طرح استوار کیں کہ جلد جلد وسعت کی وجہ سے مالی معاملات میں خلل واقع نہ ہو۔بفضل تعالیٰ انکی یہ سعی کامیاب رہی اور آج بھی کراچی جماعت کا مالی نظام معمولی تبدیلیوں کے ساتھ ان کے وضع کردہ خطوط پر چل رہا ہے۔رامہ صاحب کی حسن کارکردگی کا علم حضرت خلیفہ مسیح اشفاق کبھی تھا اور اسکے کام پر بار ہا اظہار خوشنودی فرما چکے تھے چنانچہ ایک موقعہ پر قیام کراچی کے دوران فرمایا کہ رامہ صاحب جیسے کارکن کی مرکز میں زیادہ ضرورت ہے اس لئے ان کو ناظر بیت المال مقرر کرتا الفضل 8 جنوری 1995ء) ہوں۔" دوران ملازمت محکمہ میں آپکی ایک قابل محنتی اور دیانتدار افسر کی حیثیت سے بہت اچھی شہرت تھی اور اعلیٰ حکام کی نظروں میں بڑی عزت اور احترام سے دیکھے جاتے تھے۔دیانتداری کا یہ حال تھا کہ اس معاملے میں اپنے کیریر کی بھی پرواہ نہ تھی۔ایک بار آپ نے یہ واقعہ سنایا کہ دوسری جنگِ عظیم کے شروع میں آپکی تعیناتی شملہ میں ہوگئی تھی۔آپنے وہاں دفتر کا چارج سنبھالا تو معلوم ہوا کہ ٹھیکیداروں سے رشوت لینے کا سلسلہ اس خوبی اور مضبوطی سے قائم ہے کہ دفتر میں ہر (II)