درثمین فارسی کے محاسن — Page 315
۳۱۵ نمبر شمار نام شاعر استعار میں نے دور دراز ملکوںسے بھی فلدہ اٹھایا، اور ہر کھلیان سے کوئی خوشہ لیا۔(البدر هر نومبر شاه) ۱۹۴ سعدی خواهد در بند نقش ایوان است : خانه از پائے بست ویران است مالک مکان کے نقش ونگار کی فکر میں ہے ، حالانکہ مکان کی بنیا دیں ویران ہوچکی ہیں۔140 (الحکم ۱۰ نومبر ۶۱) ۱۹۵ نا معلوم بی کے انداختم رو انداختم ولی توجہ میں نے کب دل میں ڈالا ہے شاید کیوڑ میں ڈال دیا ہے۔( البدرار نومبر ) ۱۹۶ ضرب الم کسب کال کن که عزیز جہاں شوی : کس بے کمال پیچے نہ ارز و عزیز من 194 کوئی کمال حال کو تالوگ تجھے پسند کریں ، اے میر عزیز کمال کے بغیرکسی کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔14+4 البدر هر فروری بالنشر) یکے بر سر شاخ و بن سے برید۔ترجمہ : ایک شخص شہنی کے سرے پر بیٹھا اس کی ۱۹۷ سعدی جڑ کاٹ رہا تھا۔14A (الحکم ، مٹی بشار) چو از راه حکمت به بند د دوری کشاید بفضل و کرم دیگرے : اگرکسی مصلحت کی بناپر ایک دروازہ بند کردیتا ہے ، تواپنے فضل وکرم سے دوسرا کھول دیتا ہے۔(البدر و اگست باد) ۱۹۹ نامعلوم عروس حضر قرآن نقاب آنگاه بر دارد که دارالملک معنی را کند خالی زیر غوغا بارگاہ فرقان کی دلہن تب نقاب اٹھاتی ہے ، جب باطن کی بستی کو ہر قسم کے شور و شر سے خالی کر لیا جائے۔ا حکم ۲۳ جنوری بانه