درثمین فارسی کے محاسن — Page 230
۳۳۰ ایک اقتباس اور ملاحظہ فرمائیے۔اس میں حضرت اقدس نے یہ بیان فرمایا ہے۔کہ دوسری تمام تعماء کی طرح معرفت کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ خود ہی عنایت فرماتا ہے۔ضعیف انسان محض اپنی ہی عقل اور کوشش سے اسے حاصل نہیں کر سکتا۔فرمایا : بست مارا سکے کہ ہر فیضان : می شود رای محافظ تن و جاں آن خدائے کہ آفرید جہاں : پست هر آفرید را نگران ہر چہ باید برائے مخلوقات : انر لباس و خوراک و راه نجات خود مهیا کند بمنت وجود که کریم ست و قادر است و دود چشم خود کن بکشت صحرا باز : خوشه با خوشه ایستاده بساز همه از بهر ماست تا بخوریم : درد و رنج گرسنگی نه بریم آنکه از بهر چند روزه حیات این قدر کرده است تائیدات : چوں نہ کرے برائے دارِ بقا : نظر سے کن بعقل و شرم و حیا سنگ افتد بری چینیں فرهنگ که نصدق است دور صد فرسنگ ترجمہ :۔ہمارا ایک ہی (خدا) ہے، کہ ہر فیضان اس کی طرف سے ہمارے تن و جان کا محافظ ہے وہ خُدا جنسی یہ دنیا پیدا کی ہے، وہی مخلوق کا نگہبان ہے۔مخلوقات کے لئے جو کچھ بھی درکار ہے مثلا لباس، خوراک اور نجات کا راستہ وہ یہ سب اپنے احسان اور مہربانی سے خود مہیا کرتا ہے کیونکروہ کریم ہے، قادر ہے اور بہت محبت کرنے والا ہے جنگل میں کھیتوں کی طرف آنکھ کھول کر دیکھ خوشے کے ساتھ خوشہ ناز کے ساتھ کھڑا ہے۔یہ سب ہمارے لئے ہے، تاہم کھائیں۔اور بھوک کا دیکھ اور تکلیف نہ اٹھائیں۔وہ جس نے چند روزہ زندگی کے لئے اتنی چیزیں مہیا کی ہیں۔تو وہ ہمیشہ کے گھر کے لئے کیوں نہ کرتا عقل شرم اور حیا سے غور کرو۔ایسی عقل پر پھر ٹریں ، جو راستی سے سینکڑوں کوسس دُور ہو۔