درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 229 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 229

۲۲۹ عاشقان را صبر و آرامے کی : توبہ از روئے دلا را مے کی آنکه در قعر دل منرود آید به دیده از دیدنش نیاساید ای خرد مندیکہ اور دیوانه ات شمع بزم است آنکه او پرژاندات از عمل ثابت کن آی نوریکه در ایمان تست : دل چودادی یوسفی را راه کنان راگرین برگ تار وجودش خانه یا در اندل هردم و هرزاده اش پر از جمال دوستدار در ثمین ص ۲۳) ور ثمین صنا) در ثمین منت) در ثمین ) در ثمین من) عرفان منتہائے معرفت علم رخت : صادقان راہنمائے صدق ب عشقت قرار در تمین منت مندرجہ بالا اشعار صرف نمونہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں۔ورنہ حضرت اقدس کے کلام میں ایسے سادہ مگر بلیغ اشعار بحثرت موجود ہیں جن کے بے مثال حسن کو دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔اس سلسلہ میں ل ترجمہ: عاشقوں کے لئے برادر آرام کہاں؟ اور جو کے چرسے روگردانی کہاں وہ جودل کی گہرایوں میں ان جاتا ہے۔آنکھ اس کو دیکھتے رہنے سے میں نہیں ہوتی عقلمندی ہے جو ترادیوانہ ہو شمع بزم وہی ہے جو تیرا پڑا نہ ہو۔اس نور کو جو تیرے ایمان میں ہے ، اپنے عمل سے ثابت کر جب تو نے کسی یوسف کو دل دیا ہے ، تو کنعان کی راہ بھی اختیار کرلے۔اس دنیا کے وجود کا ہر رگ ریشہ محبوب از لی کاگھر ہے اور اسکی ہر سانس اور ہر ذرہ دوست کے جمال سے منور ہے۔عارفوں کی معرفت کا آخری فقط تیرے رخ کا علم ہے ، اور راستبازوں کے صدق کی انتہا تیر سے عشق پر ثابت قدم رہنا ہے :