درثمین فارسی کے محاسن — Page 223
MAA وہاں اس کی نفع رسانی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ہر سرے سرے زخلوت گاہ اُو : ہر قدم جوید دیر با جاه او مطلب ہر دل جمال روئے اوست : گھر ہے گر بہت ہر کوئے اوست ان دونوں شعروں کی بلاغت دیکھئے۔کیا انسانی دماغ کا بھید کوئی شخص جان سکتا ہے کہ وہ کیسے کام کرتا ہے۔ساتھ قدم کا ذکر کیا۔اس لئے کہ جو خیال دماغ میں پیدا ہواس کی تکمیل کے لئے قدم ہی آگے بڑھے گا۔اور بہترین مقصد کیا ہو سکتا ہے ؟ بارگاہ الہی کی تلاش جیب کی تشریح اگلے شعر میں کی گئی ہے کہ ہر دل و دماغ کا مقصد دیدار الہی ہی ہے۔تب سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اور طرف کیوں متوجہ ہو جاتے ہیں۔فرمایا : خدا ہی کی تلاش میں راستہ بھول جاتے ہیں۔اس تخیل کی ندرت ملاحظہ فرمائیے : سے (۳) دلم در سینه ریشم مجوئید : که بستیمش برا مان نگار سے در زمین ) دل دینا، پیش کرنا، لگا دینا تو سنتے آئے ہیں۔لیکن محبوب کے دامن سے باندھ دینا نیا خیال ہے جو فارسی کلام میں لایا گیا ہے۔بچپن میں ہم زمیندارہ ماحول میں دیکھا کرتے تھے کہ جب مہمان رخصت ہونے لگے تو تحفہ کے طور پر کچھ نہ کچھ اس کے دامن سے باندھ دیتے تھے حضرت اقدس فرماتے ہیں۔کہ ہمارا دل جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔اس لئے محبوب کے وداع ہوتے وقت اسے بھی محبوب کے دامن سے باندھ دیتے ہیں کہ اسے بھی اپنے ساتھ لیتے جاؤ۔کے ترجمہ : ہر دماغ اس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے ، اور ہر قدم اسی کے با عظمت دروازہ کو تلاش کرتا ہے۔ہرل کا مقصد اسی کے چہرے کے حسن کا دیدار کرنا ہے اور اگر کوئی شخص بھٹکا ہے، تو اسی کو تلاش کرتا بھٹکا ہے۔ترجمه امیر کول کومیر نخی سینه ی سمت تلاش کرو کیونکرمیں نے تو اسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔