درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 222 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 222

دل نیار آمد بجگر گفت دیار ؛ گرچه پیش دید یا باشد نگاره در این منش) جدت یعنی نیا پن جس کا اظہار متعد د طریقوں سے ہوتا ہے۔مثلاً ایک تو نئے مضامین سے جس پر پہلوں نے قلم نہ اٹھایا ہو، یا کم توجہ کی ہو جیسے قرآن مجید کی مدح اور وحی و الہام کی ضرورت اور امکان۔دوم بعض مضامین کے بیان کے طریق میں اصلاح کر کے اسے زیادہ مفید بنانا اور حقیقت کے زیادہ قریب لانا۔جیسے نعت رسول میں محبت الہی اور روحانی اور اخلاقی امور کے بیان کو ترجیح دینا۔سوم کلام میں نئے اور اچھوتے استعارے اور تشبیہ وغیرہ کالانا۔جو پہلوں کے کلام میں نہ پائے جاتے ہوں۔پہلے دونوں امور کا ذکر گذشتہ صفحات میں آچکا ہے ، تیسرے امر کے متعلق ذیل میں مثالیں ملاحظہ فرمائیے : (1) نعرہ ہائے زنم بر آب زلال : ہمچو ما در دواں ہے اطفال ور ثمین ۵۵) ہمدردی اور خیر خواہی کی کیسی دلنشین تشبیہ ہے۔ذرا بچوں کے پیچھے ماں کے دوڑ نے کا نظارہ ذہین میں مستحضہ کیجیئے۔(۲) کیفیت علومش دانی چه شان دارد : شهد لیست آسمانی از وحی حق چکیده در ثمین ص) یہاں شہد کے استعارہ سے جہاں قرآنی وحی کی حلاوت ، لذت اور حسن کو پیش کیا گیا ہے ، اے ترجمہ : محبوب کے کلام کے بغیر دل مطمئن نہیں ہوتا، اگرچہ وہ آنکھوں کے سامنے ہی کیوں نہ ہو۔سے ترجمہ : میں مصفا پانی کے چشمہ پر کھڑا پکار رہا ہوں جس طرح ماں اپنے بچوں کے پیچھے بیقراری سے موڑتی ہے۔سے ترجمہ : تجھے کیا پتہ کہ اسکے علوم کی حقیقت کی کیا شان ہے ، وہ تو آسمانی شہد ہے جو خدا کی وحی سے ٹپکا ہے۔