درثمین فارسی کے محاسن — Page 121
بهارست و با صفا در همین کند نازه با با گل و یاسمن و : ز نسرین و گلہائے فصل پیار ہے نسیم صباحے وزد عطر یار تو اسے ابلہ افتادہ اندر خزاں : ہمہ برگ افشانده چو مفلسا له در تمین خشت) ناصحان را خبر نه حالم نیست : گذرے سوئے اکی زلالم نیست آمدم چون سحر بلجہ نور : تا شود تیرگی زگورم دور شور افگنده ام که تازین کار به خلق گردد ز خواب خود بیدار نما فلان من زیار آمده ام ہمچو باد بسیار آمده ام این زمانم زمانه گلزار به موسیم لالہ زار و وقت بہار آمدم تا نگار باز آید به بیدلان را قرار باز آیده : ور ثمین ) ے ترجمہ: بہار کا موسم ہے اور باغ میں بادصفا گلاب اور چنبیلی کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہی ہے۔سیلوتی اور فصل بہار کے پھولوں کیسے کی ٹھنڈی ہو اعطر پیساتی ہوئی چل رہی ہے تو اسے ہیو قوف خزان کی (حالت میں) میں پڑا ہے۔اور مفلسوں کی طرح سب پتے جھڑ گئے ہیں : ه ترجمه ، نصیحت کرنیوالوں کو میری حالت کی کچھ خبر ہیں۔میرے مصفا پانی کی طرف ان کا گذر ہی نہیں ہوا میں صبح کی طرح ورود کی ایک طوفان لیکر آیا ہوں تامر اروشنی سے اندھیرا اور ہو جائے میں نے اسلئے شور بر پا کر رکھاہے کہ لوگ اپنی فلت کی نیند سے جاگ اٹھیں۔اسے فاضلو ہمیں مجبو کے پاس سے آیا ہوں اور باد بہار کی طرح آیا ہوں۔میرا یہ زمانہ باغ کے سرسبز ہونے ) کا زمانہ ہے۔شرخ پھولوں کے تختوں کا موسم اور بہار کا زمانہ ہے۔میں اسلئے آیا ہوں تا محبوب کوٹ آئے۔اور عاشقوں کو قرار آجائے۔