درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 42 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 42

۴۲ کے ضائع بائع اور دوست فون بلاغت کی بھرمار نے کس طرح معانی ریعنی اس مقصد (رح) کو نظروں سے او بیل کر دیا ہے۔جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے نہایت خوبصورت اور شاندار ہیں لیکن محامد باری تعالیٰ تلاش کرنیکی کوشش کی جائے تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔لفظ لفظ سے اپنے تجر علی کا تفاخر کیا ہے۔تمام اشعار حمد باری تعالی کے بیان کی بجائے اپنی فضیلت اور قابلیت کا مرقع نظر آتے ہیں۔بیشک شنا کا لفظ بار بار آیا ہے لیکن کسی قابل شنا صفت کا ذکر کہیں نہیں۔دیدہ شہود نے جمال کا نیا رنگ پکڑا لیکن جمال کا ہلکا سا خاکہ بھی اس نظم میں کہیں نہیں ملتا۔بیشک ذات باری تعالی دنیا کی جھاگ سے نہیں چھپ سکتی لیکن وہ کونسی صفات ہیں جن کے ذریعہ ذات باری تعالی کاجلوہ دکھائی دیتا ہے ان کا بیان کہیں نہیں۔حالانکہ ذات باری تعالی کا ادراک کی صفات کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے لیکن اس اقتباس میں ان کی جھلک بھی کہیں نظر نہیں پڑتی۔سب شعر علم بلاغت میں مولانا کی مہارت کو ضرور نمایاں کرتے ہیں لیکن اکثر شعروں کا حمد سے کوئی تعلق نہیں۔مثلا گواں شعر دیکھئے۔فرماتے ہیں۔آفتاب کے الف پر جو مد ہے اس کی آفتاب نہیں چھپ سکتا۔اسے ذاتِ باری تعالی کے منفی ندرہ سکنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس مد کے مقابلہ میں وہ کونسی چیز ہے ، جو ذات باریتعالی کو چھپا نہیں سکتی۔خیال کے گھوڑے کتنا ہی دوڑائیے یہ شک کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ پر چسپاں نہیں ہوسکتی۔اگر کہا جائے کر منہ سے مراد صفات ہیں تو وہ تو الٹا اس ذات بے مثال کو ظاہر کرنیکا ذریعہ ہیں۔نہ چھپانے کا۔بفرض محال انہیں چھپانے کا ذریعہ ہی سمجھ لیا جائے۔توکیا وہ صرف اتنی ہی کم اور عمولی سی ہیں حقیقی آفتاب کی مد ہے۔یہ توحد نہ ہوئی۔نعوذ باللہ مذمت ہو گئی۔یہی مجاز کوحقیقت سے بڑھانے کا رجحان ہے جس کا رونا مولانامحمد حسین صاحب آزاد نے رویا تھا۔(دیکھئے ملا ہذا، اور یہی مریحان جب غالب آجائے تو کلام کو ممل بنا دیتا ہے۔الفاظ کی پیچیدگیاں صرف درمانی تعیش کا سامان مہیا کر تی ہے لیکن ان سے مفید مطلب کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی۔ہاں صورت کے پجاریوں کی واہ واہ ضرور ملتی ہے۔اس کے مقابلہ میں حضرت اقدس کا کلام بظاہر سادہ لیکن معانی سے لبریز ہے الفاظ بھی موتیوں کی لڑیوں کی طرح مربوط اور نگینوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔چنانچہ آپ کا کلام سلامت بیان کا بہترین نمونہ ہے : اور