درثمین فارسی کے محاسن — Page 34
م م اے درون پرور برون آرای : ولے خود بخش بے خرد بخشای خالق و رازق زمین و زمان : حافظ و ناصر مکین و مکان ہمراز صنع تو مکان و مکین : همه در امر تو زمان و زمین آتش و آب و باد و خاک سکوں ہے ہمہ در امر قدرتت بے چوں عرش تا فرش جز و مبدع تست : عقل با روح پیک سریع تست دردیاں ہر زبان که گر دانست : از ثنائے تو اندرو جانست نامهای بزرگ محترمت : رهبر جود و نعمت و کرمت هر یک افزون زعرش و فرش و ملک کاں ہزار و یکست و صد کم یک ہر یکے زاں بحاجتے منسوب :: لیک نامحرمان ازاں مجوده یا رب از فضل و رحمت این دل و جاں : محرم دید نام خود گردان به ( حديقة الحقیقہ منت) ہ :۔اسے جان کی پرورش کرنیوالے اور سیم کو زیب و زینت بخشنے والے بالے بے عقلوں کو عقل بخشنے والے رہیں بھی بنیں۔اسے کائنات عالم کو پیداکرنیوالے اورانہیں رزق پہچانے والے اے مکینو اور کانوں محافظ وناصر اسی مکان ویکی تیری ہی کاریگری کا کرشمہ ہیں۔زمانی زمیں سب تیرے فرمانبردار ہیں۔یہ آگ پانی ہوا اور یہ بے حرکت مٹی سب بے چون و چرا تیری ہی اطاعت کر رہے ہیں۔عرش (آسمان) سے لیکر فرش (زمین تک سب تیری ہی پیدائش کے افراد ہیں۔او عقل بھی اور روح بھی تیرے ہی تیز رو قاصد ہیں۔ہر منہ میں جو زبان حرکت میں ہے اس میں تیری ہی شنا کرنے کے باعث جان ہے۔تیرے عظمت والے قابل احترام نام تیری بخششوں نعمتوں اور مہربانیوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ہر ایک عرش اور فرش اور فرشتوں سے بڑھ کر ہے۔جو ا نام ایک ہزار ایک اور ایک کم سو ہیں۔ہر ایک نام دانسان کی کسی نہ کسی حاجت سے منسوب ہے لیکن وہ اسرار الہی کے ناموں پوشیدہ ہیں۔اسے اب اپنے فضل ورحمت ہے (میرے) اس دل و جان کو اپنے ہرام کے دار کا حرم بنا دی۔