درثمین فارسی کے محاسن — Page 308
نمبر شمار نام شاعر اشعار ۱۳۱ مولاناروم یار غالب شوکه تا غالب شوی۔ترجمہ : وزیروں کا ساتھ ہوتا تو بھی غالب بن جائے۔۱۴۲ جامی ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ سعدی نا معلوم سعدی (البدر ۱۹ دسمبر ) اگر دنیا بیک دستور ماندی بسا اسرار ہا مستور ماندے اگر دن ایک ہی ڈھب پر رہتی ، تو کئی اسرار چیپسے ہی رہتے دالحکم 19 دسمبر ) این سعادت بزور باز و نیست : تا نه بخشد خدائے بخشنده یہ سعادت اپنے زور بازو سے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک وہ بخشنے والا خدا خود عطا نہ کرے۔۱۹۰ء البدر ۲۶ دسمبر ) دوستان را کجا کئی محروم تو که با دشمنان نظر داری تو دوستوں کو کہاں محروم رکھے گا ، تو جو دشمنوں کا بھی دھیان رکھتا ہے۔دالحکم اور فروری بادی) حضرت انسان که حد شترک است : میتواند شد سیما میتواند شد خی انسان جو حد مشترک ہے ، وہ مسیحا بھی بن سکتا ہے اور گدھا بھی۔الب در ۱۳ فروری ) چه خوش گفت در ولیش کو تا دست که شب تو به کرد و سحر گه شکست کسی بے حوصلہ فقیر نے جو رات کو توبہ کرتا تھا اور دن کو توڑ دیتا تھا، کیا اچھی بات کہی ہے۔لے : وہ اچھی بات یہ ہے اسے "گر او تو به بخشد بماند درست کہ پیمان ما بے ثباتست و شست اگر خدا تو یہ بخشے تو وہ قائم رہتی ہے کیونکہ ہمارا ہد توناپائیدار اورکزو ہوتا ہے۔(بوستان سعدی باب ۱۰)