درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 271 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 271

تو اس شعر میں ایک ناپسندیدہ ابہام ہے ، وہ یہ کہ طالب بیقرار میں قرار کا لفظ مصرع اول کے لفظ قرار کے مقابل پر آیا ہے۔اس لئے اس کے معنے بیقراری ہونے چاہئیں۔اسی طرح اس نظم کے دوسرے اشعار سے بھی یہی ترشح ہوتا ہے کہ یہاں بے قراری کا لفظ ہونا چاہیئے۔لیکن طالب بیقرار کے الفاظ ان معنوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔کیونکہ بے قراری اسم حاصل مصدر ہے اور بے قرار اسم صفت۔اور اسم صفت مضاف الیہ نہیں بن سکتا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ طالب بیقرار سے مراد بقر الشخص لے لیا تا (صفت سجائے موصوف) لیکن اس قیاس میں بھی بعض قرائن روک ہیں جو نیچے درج ہیں۔بفرض محال تسلیم بھی کر لی جائے کسی نرگسی طرح طالب بیقرارہ کے معنی طالب بیقراری لئے جاسکتے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو پہلے ہی بے قرار ہے (جملہ بیقراریت ) پھر ا سے اور کونسی بے قراری تلاش کرنے کی تلقین کی جارہ ہی ہے۔اس کے مقابلہ میں دیکھئے ، حضرت اقدس کسی خوبصورت انداز میں فرماتے ہیں : سے آنکس کو مہت اور بیٹے آن یار بیقرار بر محبتش گزین و قرارے دراں مجھے ور ثمین منت) دیکھئے کہیں کوئی ابہام نہیں۔مفہوم روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جو شخص قرار کا متلاشی ہو اسے کسی ایسے شخص کی صحبت اختیار کرنی چاہیے ، جو محبوب حقیقی کے لئے بیقرار ہو۔یہاں قرار کے لفظ سے مراد بیقراری کے متقابل قرارہ نہیں۔بلکہ بیقراری کی حالت پر سکون اور اطمینان مراد ہے جو اپنے سے بڑھ کر محبوب حقیقی کے لئے بیقرار تشخص کی صحبت سے حاصل ہو سکتا ہے۔اس شعر سے مولانا روم کی مراد بھی غالباً یہی تھی۔اگرچہ مناسب الفاظ نہ لائے جاسکے، ورنہ عاشق کو ترجمہ: جو شخص اس دوست کے لئے بیقرار ہے ، جا اس کی صحبت اختیار کرتا تجھے تسکین حاصل ہو۔