درثمین فارسی کے محاسن — Page 269
۲۶۹ از دیدنت نتوانم که دیده بر بندم با دگر مت بود بینم که تیر سے آینده اس مفہوم کو حضرت اقدس یوں ادا فرماتے ہیں : سے ن آن نمی کنیم به ندم رو دوست در بینم این که تیر بیاید برا بر تم در تمین ۲۵۲) دعوئی تو پہلے دونوں مصرعوں کا خوبصورت ہے۔پھر بھی نتوانم کے لفظ سے ایک قسم کی کوتاہی کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے برخلاف حضرت اقدس کے مصرع میں بلند ہمتی کی جھلک نظر آتی ہے۔پھر دیدنت کی بجائے روئے دوست کے الفاظ لانے سے حضرت اقدس کا مصرع اور نکھر گیا۔اور اس سے بڑھ کر یہ کہ مقابلہ کی بجائے برابر کا لفظ لانے سے حضرت اقدس کا شعر فصاحت میں اور بھی بڑھ گیا ہے اور محاورہ کے مطابق ہو گیا ہے۔مقابلہ کے لفظ کو کبھی سامنے کے معنوں میں استعمال کر لیتے ہیں۔لیکن اس کے اصل معنی روبرو (یعنی آمنے سامنے کے ہیں اور یہ معنے نشانہ اور تیر پر صادق نہیں آتے ، کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف نہیں آتے۔بلکہ صرف تیر نشانہ کی طرف آتا ہے۔اس مفہوم کے لئے صحیح لفظ برا بر ہے ج کے معنی ٹھیک سامنے کے ہیں ( ABREAST ) فارسی زبان میں ظروف کے ساتھ حرف جر نہیں لگایا جاتا۔ہم کہتے ہیں میں رات کو سویا لیکن وہ کہتے ہیں، شب خفتم۔اسلئے مذکورہ بالا شعر میں در کا لفظ نہیں آیا۔ہاں کبھی حرف جر لے بھی آئے ہیں۔جیسے شیخ سعدی کہتے ہیں: سے تو در برابر پو گوسفند سلیم : در قضا ہمچو گرگ مردم داده مردم اے ترجمہ : میں تیری طرف دیکھنے سے آنکھ بند نہیں کر سکتا، خواہ سامنے دیکھوں کہ تیرا آرہا ہے۔ے ترجمہ ہیں ایسانہیں ہو کر جیو کے مکھڑے کی طر سے آنکھیں بندکرنوں خواہ جھے نظر آ رہا ہوکر ترسید امیری طرف آرہا ہے۔کے ترجمہ : سامنے تو فرمانبردار بھیٹر کی طرح ہیں ، اور پیچھے لوگوں کو چیرنے والے بھیڑیئے۔