درثمین فارسی کے محاسن — Page 228
پرده ها بر پرده با افروخته با مطلبے نزدیک دور انداخته در همین ۲۳) در زمین شد د در ثمین منه سخین یار و سینه افسرده : جامه زنده است به مرده از کس و ناکسی بیاموزی فنون : عارداری زماں حکیم ہے جگوں اسے در انکار مانده از الهام : که د عقل تو عقل را بدنام ریزه ریزه شد آبگینہ شاں : بُوٹے دلبر دمد نہ سینۂ شاں آنکه چشم آفرید نور دید ؛ آنکه دل داد و سرور دید مردگان را همی کشی به کنار : وز دلارام زنده بیزار : در تمین صن) ور ثمین ص۳۳) دور ثمین صدا در ثمین صنا ترجمہ : پردوں پر پردے ڈال کر نزدیک والے مقصد کو بھی دور کر دیا ہے۔ذکر دوست کا اور دل افسرہ ، گویا زہندہ کا لباس مردہ نے پہن رکھا ہے۔تو ہر اعلیٰ و ادنی سے تو ہنر سیکھتا ہے، لیکن اس بے مثال دانشور رخدائے تعالیٰ سے تجھے شرم آتی ہے۔اسے وہ شخص جو الہام سے انکاری ہے، تیری عقل نے تو عقل کو بدنام کر رکھا ہے۔ان کے دل کا شیشہ (صراحی، چور چور ہوگیا ہے ، لہذا ان کے سینہ سے محبوب کی خوشبو آرہی ہے۔وہ جنسی آنکھ پیدا کی ہے ، روشنی بھی وہی دیتا ہے جسنی دل دیا ہے، سرور بھی وہی دیگا۔تو مردوں سے تو بغل گیر ہوتا ہے ، لیکن اس زندہ محبوب سے بیزار ہے۔